Sunday, 17 March 2013

                                ضروری اطلاع

اسلامُ علیکمُ

               عرصہ دراز کے بعد ایک ضروری اطلاع کے موضوع سے پوسٹ کیا جا رہا ھے کہ ’ھمزاد‘ بلاگ بہت جلد بند کر دیا جائے گا۔ اس بارے میں مزید تفصیل سے پوسٹ بعد میں لکھی جائے گی جس میں بلاگ کو بند کرنے کی وجہ کو تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

                                                                    وسلام

Thursday, 29 December 2011

مشقِ تصور

اسلامُ علیکمُ
               سابق مشق،مشق قائمِ نظر سے جسمِ لطیف کو جسمِ کثیف سے استخراج کے دوران عاملِ مشق جن جسمانی کیفیات سے گزرتا ھے۔ اُن میں انسانی لا شعور سے جسمِ لطیف کا سفر بجانب ُروحِ نفسانی،ُروحِ حیوانی،ُروحِ طبعی،مرکز مشاہدہ اور مرکز سے جُز شامل ھے جہاں سے جسمِ لطیف کا استخراج ھوتا ھے۔ اس دوران آپ حضرات اُس  جسمانی کیفیات سے ضرور گزرے ھوں گے مثلاً آنکھوں میں بے اِنتہا چُبن،سانس کا تھوڑی دیر کے لیے رُوک جانا،روشنیوں کے مختلف دائروں کا اِدھر اُدھر گھومنا،پاؤں کے انگوٹھوں میں سُوئی چُبنے کا احساس اور کسی  غیرمرئی جسم کا لمس آنکھوں کا بغیر اِرادہ کے نہ جھپکنا وغیرہ۔جب یہ سارے احساس و کیفیات ھوں تب ہم مشق قائمِ نظر کو مکمل تصور کرتے ہیں۔اب ہم اِس سے اگلی مشق یعنی مشق تصور کی جانب اپنی ریاضت کو بڑھائیں گے۔
تصور کے لفظی معنی خیال،دھیان،سوچ اور منطق میں کسی چیز کا علم بغیر حُکم کے ہیں۔ کائنات میں سب سے رفتار اگر کسی شے کی ھے تو وہ انسانی خیال کی رفتار ھے جس کے ذریغے ہم کائنات کی وستعوں کا سفر ایک سیکنڈ کے ابتدائی حصے میں کر گزرتے ہیں۔ خیال کی دو اقسام ہیں ایک خیال ارادی اور ایک غیر ارادی۔ ارادی خیال ہمارے شعور میں کسی مکمل منعکس عکس کے تابع ھے جسے ہم اپنے اِرادے سے جس طرف چاھیں موڑ لیں یعنی یہ وہ شاہراہ ھے جس پر سفر کرنے سے پہلے ہم اِسے خود متعین کرتے ہیں۔اور غیر اِرادی خیال وہ خیال ھے جو ہمارے ذہین میں خود بہ خود پیدا ھوتا ھے اور اِس کا تعلق ہمارے لاشعور سے بہت گہراھے۔ مگر ھمارا ذہین اِن غیر اِرادی خیالات کی آماجگاہ اکثروبیشتر بنا رہتا ھے۔ اس مشق میں ہم نہ صرف اپنے غیر اِرادی خیالات کو اپنے اِرادی خیالات کے تابع کریں گے بلکہ مشاہدہ، لاشعور اور شعور میں اپنی ریاضت سے ایک ایسی ہم آہنگی پیدا کریں گے کہ ہماری قوتِ متخیلہ پر ہمارا اِس قدر اختیار ھو جائے کہ جو ہم دیکھنا چاھیں جو ہم سوچنا چاھیں وہ ہمارے اِرادے کے تابع ھو جائے۔
ہم روزانہ اپنے اِرد گرد اِرادی اور غیر اِرادی طور بہت کچھ دیکھتے ہیں کچھ مناظر ہمارے ذہین پر گہرے نقوش مرتب کرتے ہیں اور کچھ نہیں۔ اِن گہرے نقوش کی ایک تصویر ہمارے ذہین میں محفوظ ھو جاتی ھے جسے ہم جب چاھیں اپنے اِرادے سے وقت اور ماحول کی قید سے آزاد دوبارہ دیکھ سکتے ہیں۔اِسی عمل کو ہم تصور کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔یعنی جو ہمارے مشاہدہ سے ہمارے ذہین میں محفوظ ھو جائے اُسے جب چاھیں جہاں چاھیں اپنے اِرادے سے سوچ کے پردے پر منتقل کر کے دیکھ لیں۔ اِسی عمل کو جب ہم بار بار دہرائیں تو یہ ریاضت ہمارے شعور اور لاشعور میں ربط پیدا کر دیتی ھے۔ اور ھمارے مشاہدہ میں وہ ہی کچھ آتا ھے جو ہمارا اِرادہ ھو۔
عملِ تسخیر ھمزاد میں تصور کو بہت اہمیت حاصل ھے کیونکہ اپنے جسمِ لطیف کے استخراج کے بعد ہم اپنے آپ کا تصور کرتے ہیں اور جسمِ لطیف کو تصور کی طاقت سے تشکیل دیتے ہیں جب یہ تصور اپنے اصل مقام تک پہنچتا ھے تو ہمارا جسمِ لطیف ہمارے سامنے آ حاضر ھوتا ھے۔ جب ہم اِس مقام تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں توشعور اور لاشعور میں ایسی ہم آہنگی بن جاتی ھے کہ جہاں نگاہ جاتی ھے تو ھمارے تصورمیں جو ھوتا ھے یعنی ہمارا جسمِ لطیف  ہمارے سامنے آ جاتا ھے۔
مشق کے لیے ضروری سامان۔
1. ایک ایسے کمرے کا انتخاب کریں جہاں آپ کے سوائے کوئی نہ جائے۔
2.ایک ایسا آئینہ لیں جس میں آپ اپنی شکل صاف شفاف دیکھ سکیں یعنی آئینہ میں کوئی نقص نہ ھو۔
3.آئینہ کا سائز 2x2 فٹ ھو۔
4.تین سفید چادریں۔
5.تھوڑی سی رُوئی۔
6.آئینہ کو ڈھانپنے کے لیے آئینے کے سائز سے تھوڑا بڑا کالے رنگ کا کپڑا۔
تیاری مشق:۔
آئینہ کو قَِبلہ ُرخ دیوار سے اپنے چہرے سے کچھ اُونچا بلکل سیدھا لگا دیں جس میں آپ اپنا چہرہ اور گردن باآسانی دیکھ سکیں اِردگرد سفید چادریں تان دیں تا کہ کسی اور شے کا عکس آئینہ میں نہ آ سکے۔ کمرے میں اتنی روشنی کا انتظام کریں کہ آپ آئینہ میں اپنے چہرے کو واضح طور پر دیکھ سکیں۔ کالے کپڑے کو سفید چادروں کے احاطہ میں رکھ لیں۔
مشق حصہ اول:۔
         آئینہ سے ایک فٹ دُور آلتی پالتی یا چوکڑی مار کر بیٹھ جایئں گردن اور ریڑھ  کی ہڈی بلکل سیدھی ھو مگر اعصاب پر بوجھ نہ ڈالیں۔ کانوں میں رُوئی دے لیں تا کہ کوئی بیرونی آواز آپ کے خیال کو منتشر نہ ھو دے۔ تین چکر حبسِ دم کے دے کر اپنے دماغ کو تازہ دم کر لیں۔ اپنے ذہین کو تمام خیالات سے پاک کر کے  اپنے چہرے کے عکس کی بھنوؤں کے درمیان نظر جما دیں اور ذہین میں یہ خیال  رکھیں کہ ابھی میری شکل کا ہمزاد آئینہ سے نکل کر میری اطاعت کرے گا۔ اس خیال کو گہرے سے گہرا کرتے جائیں کہ آپ مشق میں اِس قدر مستغرق ھو جائیں کہ اِردگرد کے ماحول سے بے نیاز ھو کر کسی اور ہی دُنیا کا سفر کر رھے ہیں۔ آنکھ نہ جھپکنے پائے۔ ُشروع ُشروع میں کچھ خاص نظر نہیں آئے گا مگر ُجوں ُجوں مشق میں ترقی آئے گی آپ کو محسوس ھو گا کہ آپ کے  چہرے کے خدوخال بگڑنے ُشروع ھو گئے ہیں کبھی آنکھ بڑی ھو گئی ھے تو کبھی ناک کچھ غم نہ کریں بلکہ یہ اِس امر کی دلیل ھے کہ آپ مشق کی کچھ منزل طے کر چُکے ہیں۔ بعض اوقات آپ کا اپنا چہرہ اِس قدر خوفناک ھو جائے گا کہ شاید آپ خود سے خوف محسوس کرنے لگیں۔ مگر یہ سب جو آپ کو دکھائی دے رہا ھے آپ کے جسمِ لطیف کی کارستانی ھے۔ اِس خوف کو ذرا بھی اپنے دِل میں جگہ نہ دیں اور مشق کو جاری رکھیں۔
کچھ عرصہ کے بعد آپ کو آئینہ میں اپنے سر کے دائیں جانب سے سفید روشنی نکلتی ھوئی محسوس ھو گی۔ جو دائیں طرف نیچے کی جانب بڑھنا ُشروع ھو جائے گی اور آہستہ آہستہ آپ کے گرد ایک نُور کا حالہ مکمل ھو جائے گا۔ جس دن آپ نُور کے اِس حالے کو مکمل کرنے میں کامیاب ھو گئے تو سمجھ لیں کہ آپ نے ھمزاد کو 80 فیصد تسخیر کر لیا ھے۔ اِس دوران خوابوں کا ایک سلسلے کا  آغاز ھو جائے گا مگر یہ خواب کسی کو مت سُنائیں سِوائے اپنے رہنما کے جس کی اجازت اور رہنمائی سے آپ تسخیر کی مشقیں کر رھے ہیں۔ مشق روزانہ بلاناغہ 90 منٹ لازمی کریں اگر اِس سے زیادہ وقت دے سکیں تو اور بہتر ھے۔
حصہ دوئم:۔
                مندرجہ بالا مشق ختم کرنے کے بعد آئینہ کو کالے کپڑے سے ڈھانپ دیں اور کمرے میں روشنی کو بُجھا دیں اب اندھیرے میں آنکھیں ُپوری طرح کھول کر بیٹھ جائیں اور اُس چہرے کو تلاش کریں جسے ابھی آپ آئینہ میں دیکھ رھے تھے۔ آغاز میں شاید آپ کو کچھ نظر نہ آئے مگر کچھ دن بعد روشنی کا ایک ہلکا سا نقطہ کمرے کی اندھیری فِضا میں معلق نظر آنا ُشروع ھو گا آہستہ آہستہ یہ نقطہ عجیب وغریب ُُُصورتحال اَختیار کرتا جائے گا۔ کبھی کبھی کچھ تو کبھی کچھ مگر ایسی صورتحال میں بھی آپ کا خیال منتشر نہ ھونے پائے۔ جیسے جیسے آپ مشق پر عبور حاصل کرتے جائیں گے ایک مجسم سفید روشنی واضح ھونا ُشروع ھو جائے گی۔ اور آپ خود کو واضح طور پر پہچان لیں گے کہ یہ تو میں ھوں۔ بس جس دن یہ امر واقعہ ھو گیا آپ ایک غیر معمولی انسان بن گئے اور ھمزاد آپ کی تسخیر سے چند قدم کے فاصلے پر ھے۔ 
اِحتیاط:۔ 
          مشق کے دوران پیش آنے والی صورتحال کا کسی سے ذکر مت کریں ِسوائے اپنے رہنما کے۔ مشق کے دوران اگر آپ کوئی مخاطب کرے اور جو مرضی کہتا رھے آپ کسی بات کا جواب نہ دیں بلکہ ُپورے انہماک سے مشق کو جاری رکھیں۔ اِن ایام میں اپنی غذا کو قلیل کر دیں۔ صرف ضرورت کے وقت بولیں فضول گوئی سے پرہیز کریں۔ کوشیش کریں کہ اسی کمرے میں پاک صاف بستر پر سوئیں۔ نماز پنجگانہ ادا کریں اور اﷲ سے مدد اور کامیابی کی ُدعا کرتے رہیں۔
                                        



Saturday, 24 December 2011

مشقِ تصور

    
اسلامُ علیکمُ
               بہت سے قارئین میلز کر رھے ہیں کہ تسخیر ھمزاد کی اگلی مشق کب شائع کی جائے گی۔ اُن سے گزارش ھے کہ انشااﷲ کل مشق تصور شائع کر دی جائے گی۔ جو حضرات مشق قائم نظر مکمل کر چُکے ہیں وہ اپنی کیفیات سے مطلع کریں۔

                                                             وسلام
                           

Wednesday, 7 December 2011

قارئین کی ای میلز اور کومینٹس کے جوابات

اسلامُ علیکمُ

قارئین سے معذرت خواہ ھوں کہ باعثِ مصروفیت اُن کی ای میلز اور کومینٹس کا بروقت جواب نہیں دے سکا۔ بہت سے قارئین کے سوالات مشترک ہیں اور بہت سے قارئین ھمزاد کی تفصیل لِکھنے پر اصرار کر رھے ہیں۔ اُن کی خدمت میں عرض ھے کہ میں جلد ہی ھمزاد کے موضوع پر مفصل پوسٹ لِکھوں دوں گا جس سے اِنشااﷲ قارئین کا اِس موضوع پر عِلم مکمل ھو جائے گا۔

سوال:۔ نسمۂ روحانی کیا ھے؟
جواب:۔ نسمۂ لفظ نَسمتَہ سے موسوم ھے جس کے لفظی معنی روحِ انسان کے ہیں اور یہ اُس لطیف نُور کا حصہ ھے جو انسان میں پُھونکہ گیا۔ ھمارا جسم ایک نُور کا مجموعہ ھے اور اِس نُور کا وسط  نسمۂ یا ہیولا کہلاتا ھے۔ جو کہ بہت سی قوتوں کا حامل ھے بعض لوگ اِسی کو ھمزاد خیال کرتے ہیں مگر یہ ھمزاد کی ایک اِبتدائی شکل ھے۔ اور مختلف ریاضتوں سے ہی اِسے مجموعہ سے جُدا کیا جاتا ھے۔

سوال:۔ ھمزاد جب حاضر ھوتا ھے تو اُس کی اپنی شکل کیا ھوتی ھے؟
جواب:۔ ھمزاد کی اپنی اصل ُصورت ایک سفید روشنی کی سی ھے بعض افراد کے سامنے یہ روشنی ایک غبار یا دُھواں کی ُصورت میں حاضر ھوتی ھے جو بعد میں عامل کے حُکم پر  عامل کی شکل میں تبدیل ھو جاتا ھے۔ اور یہ کوئی قانون نہیں وہ عامل کی ُصورت میں بھی حاضر ھو سکتا ھے یا کسی اور ُصورت میں بھی۔ حاضری چاروں مزاجوں کی مختلف ھو سکتی ھے۔

سوال:۔ کیا غیر مُسلم بھی ھمزاد کو تسخیر کر سکتے ہیں؟
جواب:۔ ھمزاد کی حقیقت ہر مذہب میں موجود ھے مسلمان اسے قرآنی عملیات سے تسخیر کرتے ہیں اور ہندو پنڈت،سادھو منتر وغیرہ سے کرتے تھے اہلِ مصر طلسمات سے تسخیر کرتے تھے۔ اس لیے ہر مذہب کا انسان ھمزاد کو تسخیر کر سکتا ھے۔


سوال:۔ عملِ ھمزاد کے لیے مشقیں کیوں ضروری ہیں؟
جواب:۔ میں بار ہا بتا چُکا ھوں کہ ھمزاد ھماری روحِ نفسانی میں قیام پذیر ھے جسے ھم مختلف مشقوں اور ریاضتوں سے بیدار کر کے اپنے جسمِ کثیف سے جسمِ لطیف کا  استخراج کرتے ہیں اِس کے ساتھ  ساتھ ھمیں وہ قوت بھی میسر آ جاتی ھے جس کی ضرورت ھمیں عمل کے دوران ھوتی ھے مشق یا ریاضت کے بغیر ھمزاد کو تسخیر کرنا ناممکن ھے مشقیں تسخیِر ھمزاد میں قانون کا درجہ رکھتی ہیں۔


سوال:۔ معاہدہ ھمزاد کیا ھے؟
جواب:۔ جیسا کہ ہر تسخیر کے عملیات کے کچھ قاعدے ھوتے ہیں اِسی طرح عملِ ھمزاد میں جب ھمزاد عمل مکمل ھونے پر عامل کے پاس حاضر ھوتا ھے تو کچھ سوالات کرتا ھے مثال کے طور پر آپ نے مجھے کیوں بُلایا اور مجھے کتنا عرصہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح معاہدہ کے بعد ھمزاد کی تسخیر مکمل ھوتی ھے۔ ھمزاد عامل کے کام اُس کے ساتھ تہ شُدہ معاہدے کے تحت کرتا ھے۔ اس لیے معاہدہ بہت ضروری ھے۔معاہدہ کی تفصیل کافی لمبی ھے جو کہ وقتِ مناسب پر قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی۔


سوال:۔ عملِ ھمزاد میں بخورات کی کیا اھمیت ھے؟
جواب:۔ بخورات روحانی مخلوقات کی خوراک ھے اگر عملِ ھمزاد میں اپنے کواکب کے مطابق بخور نہ جلایا جائے تو روحانی مخلوقات حاضر نہیں ھوتی اورعمل کے لوازمات نامکمل تصور کیئے جاتے ہیں۔ ہر کواکب کا بخور مختلف ھے۔ جیسے زحل کا میعہ سائلہ۔قرنفل سیاہ دانہ۔ رال۔مرچ سیاہ وغیرہ اِسی طرح ہر ایک کے بخورات مختلف ہیں۔


سوال:۔ ھمزاد کا عمل مزاج کے مطابق کیوں ھوتا ھے؟
جواب:۔ دنیا میں چار قسم کے مزاج کے انسان ہیں آتشی،بادی،خاکی،آبی جو انسان جس مزاج کے تحت ھو گا اُس کے ھمزاد کا مزاج بھی وہ ہی ھو گا اِس لیے اُس کے مزاج کے مطابق عمل کیا جائے گا تو کامیابی یقینی ھے اور مزاج کے مطابق عمل نہ کیا جائے تو عمل وقت کے ضیاع کے سِوا کچھ نہیں اور اِس بات کا یقین کرنا بھی ضروری ھے کہ جوعمل تجویز کیا گیا ھے اُس کا مزاج کیا ھے۔ یہ بھی مزاج کے مطابق ھے یا نہیں اسلیئے مزاج کا استخراج بڑی احتیاط سے کرنا چاھیئے۔ عملِ ھمزاد میں یہ بھی قاعدہ کا درجہ ھے۔


میں اُمید کرتا ھوں کہ قارئین کو اُن کے سوالات کے مفصل جوابات مل گئے ھوں گے اگر اُن کے ذہین میں مزید کوئی سوال ھو تو برائے مہربانی کومینٹس میں اپنے سوالات تحریر فرمائیں کیونکہ ہر ای میل کا جواب دینا ممکن نہیں۔
                                                  
                                                   وسلام
                                              دُعاؤں کا طلبگار





Saturday, 5 November 2011

عید مبارک

ہمزاد بلاگ کی جانب سے تمام اہلِ وطن اور اور اُمتِ مسلمہ    کو دلیِ عید مبارک 

Saturday, 29 October 2011


علمِ ھمزاد کی پوسٹ کے بارے کومنٹس اور میلز کے جوابات


اسلامُ علیکمُ

               "علمِ ھمزاد" کے موضوع سے شائع ھونے والی پوسٹ کے بارے میں قارئین کی بہت سی میلز،کچھ کومنٹس اور چیٹ روم میں بھی کچھ حضرات نے اپنی رائے کا اظہار کیا ھے۔ مصروفیت کی وجہ سے جواب نہیں دیا جا سکا۔ اِنشااﷲ ایک،دو روز میں مفصل جوابات دے دیئے جائیں گے۔

                                                                    وسلام

Wednesday, 26 October 2011

علمِ ھمزاد

 رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

اسلامُ علیکمُ
                                                                                         
                ایک "اہم مسئلہ" کے عنوان سے جو پوسٹ شائع کی گئی تھی اُس کی تفسیل حاضر خدمت ھے۔ قارئین سے التماس ھے کہ وہ بغور مطالعہ کریں۔
بعض قارئین عمل ھمزاد کی مشقوں کو کسی اور باطنی علم سے منسوب کررھے ہیں اُن سے میں پہلے بھی عرض کر چُکا ھوں کہ یہ مشقیں بہت سی باطنی قوتوں کو بیدار کرنے میں یکساں ہیں اور ماہرینِ فن نے مختلف قوتوں کے حصول کے لیے مختلف طریقوں سے ترتیب دی ہیں۔
جو حضرات ہمزاد کی تسخیر کو محض عمل کرنے پر مکمل خیال کرتے ہیں وہ مندرجہ ذیل تحریر کو غور سے مطالعہ کرنے کے بعد کوئی نتیجہ اخذ کریں۔ صرف عمل کرنے سے تسخیر ھو جاتی تو آج نہ آپ حضرات مجھے میلز کرتے اور نہ ہی یہ کوئی راز ھوتا بلکہ چارسُو عاملِ ھمزاد ھوتے۔ میں ایسے بہت سے حضرات کو جانتا ھوں جو کئی عمل سالہا سال سے کر رھے ہیں مگر ابھی تک کامیابی اُن کا مقدر نہیں بنی۔ عمل سے پہلے کیا آپ مندرجہ ذیل علوم سے واقف ہیں اور کیا آپ اِن علوم پر مکمل دسترس رکتھے ہیں۔ 

حطی،کلمن،سعفص،قرشت کے مکمل اسرار سے واقف ہیں؟
اسمِ اعظم کو کُلی طور پر صحیح نکالنے یا حاصل کرنے کے ماہر ہیں اور کیا آپ اس کا نصاب ادا کر چُکے ہیں؟
باطنی قوتوں کو بیدار کرنےکی تمام مشقیں مشقِ تنفس،قائم نظر، تصور،یکسُوئی وغیرہ مکمل کر چُکے ہیں جس میں مطلوبہ قوت کے بیدار کرنے کے احسن طریقے سے بخوبی واقف ہیں؟
کیا آپ کو قوت حواس،قوت ناطقہ،قوت سماعت،قوت شامہ پر مکمل عبور حاصل ھے؟
کیا علم المزاج اور استخراج کا مکمل طریقہ جانتے ہیں؟
علم الکوکب کے ماہر ہیں ستارہ،بُرج طالع وقت،علم الساعت کے مکمل رموز سے واقف ہیں؟
علم اسماء بخوبی آپ کے علم میں ھے؟
بخورات کی اہمیت کیا ھے؟
ھمزاد کے عملیات کی صحت کیا ھے اور یہ کونسا عمل ھے
آتشی عمل،بادی عمل،آبی عمل،خاکی عمل اور عزیمت کا مکمل استخراج کر چُکے ہیں اور کرنے والا کا اپنا مزاج جانتا ھے اور عمل میں اپنا ذاتی اسم پیوست کرنے کے ہنرمیں ماہر ھے۔کونسا عمل کیا خاصیت رکھتا ھے یہ پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟
ہر عمل کے طالع کا مکمل علم ھے؟
عمل کے لوازمات،ترتیب،تعداد،حصار کے بارے میں جانتے ہیں؟
اس کے علاوہ بھی بہت ضروری باتیں ہیں جن سے واقف ھونا بے حد ضروری ھے۔
سب سے ضروری بات کہ مندرجہ بالا تمام امُور کی ترتیب جاننا بہت ضرروی ھے۔ اس لیے اِن علوم سے ایک "عاملِ ھمزاد" ہی واقف ھو سکتا ھے۔ مکمل علم اور اُن کے اسرار کے بارے وہ شخص کبھی واقف نہیں ھو سکتا جو اِن تمام مراحل سے نہ گزرا ھو۔ تمام امور پر مکمل دسترس کے بعد  ہی کچھ ممکن ھے اگر آپ اتنا وقت اور طاقت نہیں رکھتے تو اس علم کے عامل کو من و عن تسلیم کریں اور بحث برائے بحث کو ترک کر کے صحیح راستہ اختیار کریں۔ آپ تسخیرِ ھمزاد کے خواہشمند ہیں توعامل کامل کو لازم پکڑیں کیونکہ وہ آپ کے وقت اور گمراہی سے آپ کو بچا سکتا ھے۔ جتنا وقت آپ اِن عُلوم کے اسرار سے واقف ھونے میں صرف کریں گے اتنے وقت سے کہیں پہلے آپ عاملِ ہمزاد کی مدد سے "تسخیرہمزاد" کر لیں گے۔
ایک قول ھے کہ تسلیم کے بعد تحقیق انسان کو ہمیشہ گمراہ کرتی ھے۔اس لیے تسلیم کے بعد مزید راستے تلاش کرنےمیں سوائے وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں۔ میں اُمید کرتا ھوں کہ قارئین میری عرض کو بخوبی سمجھ گئے ھو گے۔

                                                                     وسلام


    

Tuesday, 25 October 2011

ایک اہم مسئلہ

  اسلامُ علیکمُ
                      
                      بہت سے قارئین بار بار ایک ہی عنوان سے میلز کر رھے ہیں کہ اُن کہ پاس "ہمزاد" کے بہت سے عملیات ہیں اور وہ اُنھیں کرنا چاھتے ہیں میں بارہا اُن سے عرض کر چُکا ھوں کہ کبھی بھی براہ راست عملِ ہمزاد کرنے سے کامیابی نہیں ملتی۔ کل میں عملِ ہمزاد کے سارے مراحل تفسیل سے بیان کر دوں گا اگر آپ سب حضرات اُن میں ماہر ہیں تو شوق سے عمل کر سکتے ہیں۔

                                                                                           وسلام   

Monday, 10 October 2011

صلوۃ التسبیح


توبہ


میلز اور کومنٹس کے جوابات

                            quran bismillah
اسلامُ علیکمُ

سوال:۔ کسی بھی مشق میں خیال اگر اِدھر اُدھر ھو تو اُس کا مشق پر کوئی اثر تو نہیں پڑتا؟

جواب:۔ عملِ ھمزاد کی ہر مشق میں خیال کو ایک نقطہ پر رکھنا اِنتہائی ضروری ھے۔ اِبتدا میں یکسُو ھونا مشکل ھے مگر جُوں جُوں کوشیش کی جائے یکسُوئی میں بہتری آتی جاتی ھے۔ سب سے بہتر اور افضل ھے کہ نماز پنجگانہ ادا کی جائے نماز ہمارا اولین فرض ھے اور روزِ حساب سب سے پہلا سوال۔ نماز سے روحانیت میں بے پناہ اضافہ اور یکسُوئی میں بہت مدد ملتی ھے۔ یوں تو نماز کے بے پناہ فوائد ہیں جنھیں بیان کرنے سے احقر بھی قاصر ھے۔ میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ بھی پایا وہ نماز سے پایا علم،عزت،دولت ہر چیز میرے اﷲ نے مجھے عطا کی شاید جس کے میں قابل بھی نہیں تھا۔ مشقوں کے حوالہ سے قارئین سے عرض کر دوں کہ باوضو رہنے سے دماغ تمام فاسد خیالات سے پاک رہتا ھے۔ پانچوں اوقات کی نماز کے مقررہ وقت میں زمین،ھوا میں ایسی لہروں کا نزول ھوتا ھے جو روحانی علوم میں ترقی کا باعث ہیں مگر اِن سے فیضیاب وہ ہی ھوتا ھے جو اُس مقررہ وقت میں سجدہ ریزھو۔
نماز کے سائنسی اعتبار اور مخفی علوم پر عبور حاصل کرنے کے بے شمار فوائد کا ذکر انشااﷲ پھر کبھی ضرور کیا جائے گا۔

سوال:۔ اگر کوئی معمولی بیماری ھو تو یہ مشقیں شروع کی جا سکتی ہیں؟

جواب:۔ عملِ ھمزاد کی اولین شرائط میں انسان کا صحت مند ھونا ضروری ھے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی بیماری لاحق ھے تو پہلے اُس کا علاج ضروری ھے۔ خاص طور پر جنسی بیماری میں مبتلا کوئی شخص یہ مشقیں شروع نہ کرے۔

سوال:۔ رات کو مشق کرنے میں دقت پیش آ رہی ھے۔ کیونکہ رات میں معدہ ڈسٹرب ھوتا ھے؟

جواب:۔ آپ رات کے کھانے کے بعد کسی بھی اچھی کمپنی کی 
"اطریفل زمانی" استعمال کریں اِنشااﷲ افاقہ ھو گا. اس کے علاوہ جو حضرات مشقیں کر رہے ہیں وہ کوئی دماغ کی مقوی دوا یا خوراک ضرور زیرِ استعمال رکھیں۔ جیسے نہار منہ پانی میں بھگوئے ھوئے بادام، خمیرہ گاؤ زبان وغیرہ۔

سوال:۔ مشقِ سُر تنفس کے مکمل ھونے کی کیا نشانی ھے؟

جواب:۔ مشقِ سُرِ تنفس بغیر ناغہ 60 یوم میں مکمل تصور کی جاتی ھے۔

Monday, 3 October 2011

مشق قائمِ نظر کے سوالات اور اُن کے جوابات

                quran bismillah


      رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي




اسلامُ علیکمُ


مشقِ قائمِ نظر کو بڑی تفصیل سے شائع کیا گیا مگر اِس کے باوجود بہت سے قارئین کی بے پناہ ای میلز اور کومنٹس موصول ھو رھے ہیں اِس لیے اُن کے سوالات کے جوابات حاضرِ خدمت ہیں۔

سوال:۔ مشق کے لیے اِرد گرد سفید چادریں لگانا کیوں ضروری ھے؟

جواب:۔ سفید رنگ انسانی خیال کو یکسُو کرتا ھے نیز اِسلیئے بھی ضروری ھے کہ مشق کرنے والے کی توجہ کسی اور چیز کی طرف مبذول نہ ھو۔


سوال:۔ دائرہ کا سائز کتنا ھونا ضروری ھے؟


جواب:۔ دائرہ 6 اِنچ کا ھونا چاھیئے اور درمیان کا دائرہ 1 اِنچ کا ھونا چاھیئے جیسا کہ تصویر میں ظاہر کیا گیا ھے۔


سوال:۔ اِس مشق کے ساتھ حبسِ دم یا سُرتنفس کی مشق جاری رکھنی چاھیئے یا نہیں؟


جواب:۔ جیسا کہ میں نے بلاگ میں لِکھا ھے کہ صرف اِس مشق کو شروع کرنے سے پہلے ۱۰ بار حبسِ دم یا سُر تنفس کی مشق کریں تا کہ دماغ کو وافر مقدار میں آکسیجن مل جائے اور تروتازہ ھو جائے اور یہ مشق بہتر انداز میں ھو سکے۔


سوال:۔ مشق کس وقت کرنی چاھیئے؟


جواب:۔ مشق کا بہترین وقت صبح فجر کی نماز کے بعد ھے کیونکہ اُس وقت تازہ ھوا وافر مقدار میں میسر ھوتی ھے اور لہروں میں توانائی بھر پُور ھوتی ھے۔ جو لوگ صبح کے وقت مشق نہ کر سکے وہ رات کو کر سکتے ہیں بشرطیکہ رات کا کھانا کھائے ھوئے 2 سے 3 گھنٹے ھو چُکے ھوں۔


سوال:۔ مشق کے دوران کسی چیز کا پرہیز تو نہیں کرنا؟


جواب:۔ اِس مشق کے دوران کسی چیز کا کوئی پرہیز نہیں ھے مگر کھانے میں یہ احتیاط رکھیں کہ کوئی ایسی چیز تناول نہ کریں جس سے معدہ میں تبخیریا ریح پیدا ھو۔


سوال:۔ مشق میں کس دائرے پر نظر جمانی ھے؟


جواب:۔ درمیان والے 1 اِنچ کے دائرے پر اپنی نظر اور خیال کو یکسُو کرنا ھے۔


سوال:۔ مشق کا دورانیہ کتنا ھو چاھیئے؟


جواب:۔ مشق کو روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ ھونا چاھیئے اگر زیادہ سے زیادہ وقت دیا جائے تو مطلوبہ نتائج جلد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔


سوال:۔ مشق کے دوران اگر آنکھ جھپک جائے تو اِس کا مشق پر کیا اثر پڑے گا۔


جواب:۔ مشق میں زیادہ سے زیادہ کوشیش کرنی چاھیئے کہ آنکھ کم جھپکیں مگر شروع میں خود پر اِتنا جبر کرنے کی ضرورت نہیں آہستہ آہستہ خود کو عادی بنائیں۔ کیونکہ کوئی مشق یا ورزش یک دم ھمارے جسم کی عادی نہیں ھو سکتی۔


اُمید ھے کہ قارئین کو اُن کے تمام سوالات کا جواب مل گیا ھو گا اگر پھر بھی کسی کے ذہین میں کوئی سوال آئے تو بلاگ پر کومنٹس میں پوچھ سکتے ہیں۔


سوال:۔ مشق کرنے کی جگہ یا کمرے میں روشنی کتنی ھونی چاھیئے اگر چراغ جلانا ھے تو کہاں رکھنا چاھیئے؟


جواب:۔ مشق کے دوران کمرے میں اتنی روشنی ھونی چاھیئے کہ آپ دائرے کو صاف اور واضح دیکھ سکیں اور کسی چراغ وغیرہ کی ضرورت نہیں۔


                                                                      وسلام
                                                دعاؤں کا طلبگار
                                                           

Friday, 30 September 2011

مشق قائمِ نظر

                quran bismillah 
اسلامُ علیکمُ

مشق قائمِ نظر:۔
                    تسخیرھمزاد کی پہلی مشق کے مکمل ھونے پر ظاہری اثرات تو ھمارے جسم پر خاص طور پر واضح ھوتے ہیں مگر اس مشق کے مکمل ھوتے ہی ھماری باطنی قوتوں کی حاکم قوت بیدار ھو جاتی ھے جیسے ھم " ھمزاد" کہتے ہیں اس سلسلے کی دوسری مشق قائمِ نظر میں ھم اپنی نظر کو قائم کرنے کی مشق کریں گے۔  قائم کے معنی کسی چیز کا ایسی حالت میں تبدیل ھو جانے کے ہیں کہ کوئی بیرونی طاقت اس پر اثر انداز نہ ھو سکے۔ مشق قائمِ نظر سے مُراد ھے کہ ھم اپنی نظر کو اپنی قوتِ ارادی سے اِس قدر طاقتور کر لیں کہ جب چاھیں جہاں چاھیں اپنی نظر کو اثر انداز کر سکیں۔ جب بھی ھم اپنی نظر کو یکسُو کریں تو ھماری طاقتور نظر ہر رکاوٹ کو چیر کر اُس چیز پر اثر انداز ھو جس کا ارادہ ھمارے دماغ میں موجود ھو۔ نظر کے ایسے درجے کو قائمِ نظر کہتے ہیں۔ ھمیں اس مشق میں اپنی نظر کو ایسا قائم کرنا ھے اور یہ کوئی ناممکن یا انھونی بات نہیں۔ صرف اور صرف مصم ارادہ اور کڑی ریاضت درکار ھے۔
بہت سے عملیاتِ ھمزاد میں نظر اپنے سایہ پر جما کر عمل پڑھنا ھوتا ھے اس مشق میں ھم نہ صرف نظر کو جمانے کی مشق کریں گے بلکہ اس مشق سے ھمارے جسم پر جو مثبت اثرات مرتب ھو گے اُن میں عقل کا زیادہ ھونا،نظر کے تیز ھونے کے علاوہ تمام دماغی بیماریوں سے چٹکارہ شامل ھے۔ ماہرینِ فن نے اس مشق کے بہت سے طریقے واضح کیئے ہیں مگر یہاں صرف وہ طریق بیان کیا جا رہا ھے جو ذاتی  طور پر تجربہ ُشدہ ھے۔ ماہرین نے اس مشق کے عمل کو "دائرہ بینی" کا نام دیا ھے۔


اس مشق کی طریق کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ھے کہ یہ مشق ھمارے باطنی جسم یا جسمِ لطیف پر کیا اثرات مرتب کرتی ھے اور کس طرح ھم اپنے جسمِ لطیف کو جسمِ کثیف سے جُدا کرتے ہیں۔


مشق تنفس سے ھم نے اپنے جسمِ لطیف کو بیدار کیا اب مشقِ قائمِ نظر سے ھم اپنے جسمِ لطیف یا "ھمزاد" کو اپنے لاشعور سے باہر نکالیں گے۔ جب اس مشق کی ابتدا کی جاتی ھے توھماری قوتِ ارادی ھمارے زیر نظر نقطہ پریکسُوئی کو غالب کرتی ھے جب نظر ذرا سی یکسُو ھوتی ھے تو ھمارا دماغ متوجہ ھوتا ھے اور ایک خاص لہروں کو خارج کرتا ھے یہ لہریں ھمارے زیر نظر نقطہ سے ٹکرا کر  کائنات میں موجود (24000) چوبیس ہزار کلو میڑکے قطر میں پھیلتی ہیں۔ جُوں جُوں ھماری یکسُوئی میں ترقی ھوتی جاتی ھے یہ لہریں کائنات میں موجود توانائی کو اپنے اندر جذب کرکے واپس لوٹتی ہیں اور ھمارے زیر نظر نقطہ سے ٹکراتی ہیں اور ایک سفید روشنی میں تبدیل ھو کر سکڑتی اور پھیلتی ہیں اور ھمارا دماغ مسلسل مشق سے ایک بیضوی دائرے کو جنم دیتا ھے جس کے اُوپری جانب سے لہروں کا اخراج ھوتا ھے اور نیچلی جانب سے کائنات میں موجود توانائی حاصل کرنے کے بعد جو لہریں واپس آتی ہیں اُنھیں اپنے اندر جذب کرتا ھے اور اِن طاقتور لہروں کو جذب کر کے ایک قوت کی شکل دیتا ھے اور یہ  قوت ھمارے دماغ میں موجود "روح نفسانی" کو منتقل ھوتی ھے اور روحِ نفسانی کی قوت دوگنی ھو کر "روحِ حیوانی" کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرتی ھے اور چند دنوں کی مزید مشق سے روح نفسانی،روح حیوانی تک رسائی حاصل کر لیتی ھے اب یہ قوت تین ُگنا ھو کر اپنا سفر "روحِ طبعی" کی طرف سفر شروع کرتی ھے۔ جب یہ قوت روحِ طبعی سے جا ملتی ھے تو اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کر کے ھمارے لاشعور میں موجود جسمِ لطیف پر ایک دائرے کی ُصورت میں اثر انداز ھوتی ھے اور جسمِ لطیف کو ھمارے لاشعور سے نکال باہر کرتی ھے یوں ھمارا جسمِ لطیف اپنے مسکن سے نکل کر ھمارے دماغ کے "مرکزمشاہدہ" میں منتقل ھو جاتا ھے۔
جُوں جُوں ھم مشق پر پُوری توجہ دے کر ترقی کرتے جاتے ہیں مندرجہ بالا چاروں قوتیں مزید یکجا ھو کر ھمارے "مرکز مشاہدہ" پر گھر کر لیتی ہیں اور یوں جسمِ لطیف اِس مرکز سے نکلنے پر مجبور ھو جاتا ھے۔ مرکز سے جُز کی جانب سفر میں مزید کچھ وقت درکار ھوتا ھے جب تک کہ دائرہ کی قوت یہاں تک رسائی حاصل نہ کر لے۔ جس وقت دائرہ جُز کی طرف جسمِ لطیف کو دھکیلتا ھے تو جُز کا بیرونی راستہ یعنی انسانی آنکھ میں بے پناہ چُبن محسوس ھوتی ھے اور ممکن ھے کہ انسانی سانس دو سے تین منٹ تک رُک جائے۔ اس طرح ھمارا جسمِ لطیف "ھمزاد" ھمارے جسمِ کثیف سے ھماری آنکھوں کے ذریغے باہر آ جاتا ھے۔ (اگر آپ اس بلاگ کے مونو گرام کی تصویر پر غور کریں تو مندرجہ بالا عمل کو سمجھنے میں کافی مدد مل سکتی ھے)


مشق کے لیے ضروری سامان:۔
1. دو یا چار سفید چادریں
2. صاف روئی
3. کالے رنگ کا مارکر اور پرکار


مشق کی تیاری:۔
                     اِس مشق میں ایسا کمرہ منتخب کریں جو بلکل خالی ھو۔ اگر ایسا ممکن نہ ھو تو کمرے کے ایک کونے میں 8 بائی 5 فٹ کی گنجائش بنا لیں۔ اگر کمرہ میں سفید قلعی ھوئی ھو تو اپنے پیچھے ایک چادر تان دیں اور ایک چادر دائیں یا بائیں طرف جیسا کمرے کا رُخ ھو تان دیں۔ اگر کمرے میں کسی اور رنگ کا پینٹ ھو تو چاروں چادروں سے 8 بائی 5 فٹ کا مربع شکل کا احاطہ بنا لیں۔ خیال رھے کہ 5 فٹ والے حصے کا رُخ قبلہ کی طرف ھونا چاھئیے۔ اب 18 بائی 18 اِنچ کا سفید ریکسین (REXINE) کی چمکدار شیٹ لیں اِس شیٹ کو ایک ہارڈ بورڈ پر کسی گِلو سے چپکا دیں اور پرکار سے 6 اِنچ کا ایک دائرہ بنائیں اور دائرے کے عین وسط میں 1 اِنچ کا ایک اور دائرہ بنائیں 1 اِنچ والے دائرے کو سفید رھنے دیں باقی 5 اِنچ کو گہرے کالے مارکر یا رنگ سے بھر دیں۔ اب اِس بورڈ کو اپنی نظر کے بلکل متوازی دیوار پر لگا دیں۔


مشق دائرہ بینی:۔
                      مطلوبہ جگہ بیٹھنے کے بعد دائرہ سے 4 فٹ دور بیٹھ جائیں اپنے کانوں کو روئی سے بند کر لیں تا کہ کوئی آواز مشق میں خلل پیدا نہ کرے۔ بلکل اُس پوزیشن میں بیٹھیں جیسا کہ مشقِ تنفس میں بیٹھا جاتا ھے اپنی ریڑھ کی ہڈی کو بلکل سیدھا رکھیں اور گردن دائرے کے بلکل متوازی ھو۔ اب مشقِ تنفس ۱۰بار کریں تاکہ آپ کے دماغ کو آکسیجن کافی مقدار میں مل جائے اور دماغ اگلی مشق کے اثرات کو قبول کرنے کے لیے تیار ھو جائے۔ اب دائرے کے وسط میں موجود نقطہ پر نظر جمائیں۔ آنکھ بلکل نہ جھپکیں یا بہت کم جھپکنے کی کوشیش کریں۔ دل میں صرف اور صرف یہ خیال ھو کہ یہ دائرہ ابھی ختم ھو جائے گا۔ کسی اور خیال کو دل و دماغ میں نہ آنے دیں۔ شروع شروع میں آنکھوں میں بے اِنتہا چُبن محسوس ھو گی اور آنکھوں سے پانی بھی بہت بہے گا مگر یہ سب برداشت کریں کچھ دن میں درد کی شدت میں کمی بھی آ جائے گی اور یکسُوئی بھی بننے لگے گی۔ مگر اپنے تصور کو ایک ہی جگہ مرکوز رکھیں کہ یہ دائرہ ابھی ختم ھو جائے گا۔اِس مشق کو شروع میں ایک گھنٹہ اور پھر آہستہ آہستہ وقت بڑھاتے جائیں۔ مشق کے تھوڑے دونوں میں ہی نقطہ کے گرد ایک سفید روشنی کا دائرہ دائیں جانب گھومتا نظر آنا شروع ھو جاَئے گا جس دن یہ عمل شروع ھو تو یہ مشق کے ٹھیک ھونے کا ثبوت ھے۔




قارئین کو اگر کسی قسم کی کوئی دقت ھو تو بلاگ پر کومنٹس میں مشورہ طلب کر سکتے ہیں۔


                                                                                           وسلام

               
                    

Thursday, 29 September 2011

مشق تنفس

اسلامُ علیکمُ
مشق تنفس:۔
                بہت سے قارئین بار بار ای میلز کر رھے ہیں کہ اُنھیں حبسِ دم کی مشق میں بہت دقت ھو رہی ھے اُن حضرات سے التماس ھے کہ اگر وہ حبسِ دم کی مشق نہیں کر سکتے تو وہ ُسر تنفس کی مشق کر سکتے ہیں جو کہ حبسِ دم کے مقابلہ میں بہت آسان ھے اور مطلوبہ نتائج بھی جلد حاصل ھو سکتے ہیں۔

اس بلاگ کے بہت سے قارئین گو کہ وہ اس بلاگ کے ممبر نہیں ہیں مگر بار بار ای میلز کر رھے ہیں کہ وہ مشق تنفس مکمل کر چُکے ہیں اور اگلی مشق شروع کرنا چاھتے ہیں اُن سے عرض ھے کہ اُن کے انتظار کی گھڑیاں ختم ھو گئی ہیں "مشق قائمِ نظر" کل شائع کر دی جائے گی۔

                                                                                         وسلام


Thursday, 15 September 2011

رابطہ

                                        ﷽   


اسلامُ علیکمُ

بہت سے قارئین اجازت لینے کا طریقہ کار پُوچھ رھے ہیں۔ اُن کی اطلاع کے لیے عرض ھے کہ وہ میرے ای میل ایڈریس humzad_73@yahoo.com پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

                                                                                      وسلام

Wednesday, 14 September 2011

بغیر اجازت

اسلام علیکم
میں بار بار عرض کر چُکا ھوں کہ قارئین جو کچھ پوچھنا چاھتے ہیں اپنا سوال یا اپنی رائے کا اظہار براہ راست بلاگ پر کریں کیونکہ ہر ای میل کا جواب دینا ممکن نہیں۔ اور جو حضرات اپنی مرضی سے مشق کررھے ہیں اُن کے لیے عرض ھے کہ وہ یہ لوگوں سے کیوں ُچھپا رھے ہیں۔ کیونکہ میں ہر ای میل کا جواب نہیں دے سکتا۔ اور میری اجازت کے بغیر جو حضرات مشق کر رھے ہیں میں اُن کی کیا رہنمائی کروں۔ کیونکہ ہر شخص اس کا اہل نہیں ھے۔

                                                                                         وسلام

Monday, 12 September 2011

قارئین کے سوالات کے جوابات

اسلامُ علیکمُ

دو تین دن سے قارئین کی بہت سی میلز صرف اس بارے میں موصول ھو رہی ہیں کہ "مشق حبسِ دم" کے مکمل ھونے کی کیا نشانی ھے یا "مشق حبسِ دم" کتنی مدت میں مکمل ھوتی ھے۔

جواب:۔ میں بار بار قارئین سے یہ عرض کر چُکا ھوں کہ آپ اپنی جس باطنی قوت ہمزاد کو مسخر کرنے کی یہ مشق کر رھے ہیں وہ انسان کے باطن کی سب سے بڑی قوت ھے۔ اﷲ تعالٰی نے انسان کو ستر(70) باطنی قوتوں سے نوازہ ھے۔ اُن سب قوتوں کی حاکم قوت ہمزاد ھے۔ جیسے مسخر کرنے کے لیے بڑی کڑی محنت درکار ھے۔ اسے لیے صبر سے کام لیں اور مشق کو پُوری توجہ اور محنت سے کرتے رہیں آپ حضرات کی سہولت کے لیے عرض کر دیتا ھوں کہ "مشق حبسِ دم" اُس وقت مکمل تصور کی جاتی ھے جب انسان سانس 1 منٹ میں لے 5 منٹ سانس روکے اور 2 منٹ میں سانس خارج کرنے کے قابل ھو جائے۔ میرے اس جواب سے بہت سے قارئین حیرت زدہ ھو گئے ھوں گے اور سوچ رھے ھوں گے کہ یہ کیسے ممکن ھے۔ یہ ممکن ھے اور میرا ذاتی تجربہ ھے انسان کو اﷲ پاک نے جس جسم سے نوازا ھے اُس میں ایسی خصوصیات ہیں کہ جیسے آپ اپنی مرضی سے جیسے ڈھالنا چاہیں وہ ڈھل جاتا ھے ضرورت اِس امر کی ھے کہ پُوری لگن اور محنت کے ساتھ  مقررہ ریاضت مقررہ مدت تک کی جائے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ھوں کہ آپ کی محنت ضائع نہیں جائے گی۔ "مشقِ حبسِ دم" ہمزاد کو مسخر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ھے۔ جس سے آگے کے تمام راستے کُھلتے ہیں۔ بلاگ پر "مشق حبسِ دمِ" کی پوسٹ کا اگر بغور مطالعہ کریں تو آپ پر واضح ھو جائے گا کہ اِس مشق کے ہمارے ظاہری جسم پر کیا اثرات مرتب ھوتے ہیں اور ہمارے باطنی جسم یعنی جسمِ لطیف کو جسمِ کثیف سے جُدا یہی مشق کرتی ھے۔

                                                                                       وسلام

Saturday, 10 September 2011

مشق تنفس کی کیفیات

                                         ﷽       
اسلامُ علیکم

جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ "مشق تنفس" میں مختلف مزاج کے افراد کی کیفیات مختلف ہوتی

ہیں اِس لیے مشق کے دران چکر آنا ،جسم میں گرمی محسوس ہونا  یا  پسینہ آنا یہ تمام کیفیات معمول کی 

بات ہے۔ بعض افراد کو "عملِ تطہیر تنفس" کے دوران پیٹ میں درد محسوس ہوتا ہے ایسا صرف

اُس وقت ہوتا ہے جب آپ مقررہ تعداد میں اپنی مرضی سے اضافہ کرتے ہیں۔ اِن مشقوں سے

مکمل فائدہ حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مشق مقررہ تعداد اور مقررہ مدت تک کی جائے

                                                                                                                                                                                                                                   وسلام

Friday, 9 September 2011

قارئین کے لیے اطلاع

                                               
اسلامُ علیکمُ    
      

میں جانتا ھوں کہ بہت سے قارئین اجازت کے بغیر مشقیں کر رھے ہیں مشق کی تمام تر تفصیل لکھنے کے باوجود بھی بعض افراد اپنی مرضی سے مشق میں کچھ تبدیلی کر کے مشق کرنے کی کوشیش کر رھے ہیں مگرایسے حضرات سے گزارش ھے کہ وہ بلاگ پر لکھی گئی تعداد کے مطابق مشق کریں اور جیسے جیسے تعداد میں اضافے کی ہدایت کی گئی ھے ویسا کریں ورنہ فائدے کی بجائے نقصان کا اندیشہ ھے۔ اس علم کی مشقوں میں بہت سی کیفیات مختلف افراد کے مزاج کے حوالے سے مختلف ہیں اس لیے جو افراد بغیر اجازت اور کیفیت کی اطلاع کے اپنی مرضی کی تعداد سے مشق کر رھے وہ نقصان کے خود ذمہ دار ہیں۔ اسی نقصان کے بارے میں مجھے بہت سی میلز موصول ھو رہی ہیں۔ اس لیے مشق بلاگ پر لکھی گئی ہدایت کے مطابق کریں۔

انشااﷲ " مشق قائمِ نظر" دو تین دن میں قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی اس کے علاوہ بہت سے قارئین ہمزاد کی صلاحیتوں کے بارے میں میلز کر رھے ہیں لہذا اُن سے عرض ھے کہ بہت جلد ہمزاد کے موضوع پر ایک آڈیو ریکاڈنگ اپ لوڈ کر دی جائے گی جس میں ہمزاد کی ہر صلاحیت اور خصوصیات کا مکمل احاطہ کیا جائے گا۔

                                                                                     وسلام